معجزاتِ رسولِ اکرم ﷺ
بسم اللہ الرحمن الرحیم. آج ہم آپ کو رسولِ اکرم ﷺ کے5 معجزات کے بارے میں بتائیں گے۔
1۔ حجرِ اسود کا چومنا
جب رسولِ اکرم ﷺ مکہ مکرمہ فتح کرنے کے بعد کعبہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے حجرِ اسود کو چوما۔ اس وقت قریش کے لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہمارے بتوں کو چوم رہا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِیمَ مُصَلًّى
ترجمہ: اور ابراہیم کے مقام کو نماز کی جگہ بنا لو۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حجرِ اسود کو چومنا جائز ہے۔
2۔ شقِ قمر
ایک مرتبہ کفارِ مکہ نے رسولِ اکرم ﷺ سے معجزہ طلب کیا۔ آپ نےچاندکے دو ٹکڑے کر دیے۔ ایک ٹکڑہ جبلِ قعیقعان پر اور دوسرا ٹکڑہ جبلِ ابوقبیس پر چلا گیا۔ اس معجزے کو دیکھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔
3۔ معراج
ایک رات رسولِ اکرم ﷺ کو مسجد الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جایا گیا۔ پھر آپ کو آسمانوں پر بلایا گیا۔ آپ نے جنت اور دوزخ کو بھی دیکھا۔
4۔ غارِ ثور میں کھانا
جب رسولِ اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ غارِ ثور میں چھپے ہوئے تھے تو ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک کبوتر اور ایک مکڑی کو بھیجا۔ کبوتر نے غار کے منہ پر گھونسلہ بنا لیا اور مکڑی نے غار کے منہ کو جالے سے بند کر دیا۔ اس طرح رسولِ اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کھانے کے لیے دانہ اور پانی ملنے لگا۔
5۔ خندق کی کھدائی
جب غزوۂ خندق کے موقع پر کفارِ مکہ نے مدینہ پر حملہ کیا تو رسولِ اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ خندق کھودیں۔ مسلمانوں نے سخت محنت سے خندق کھود لی۔ اس خندق نے کفارِ مکہ کو مدینہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔
یہ رسولِ اکرم ﷺ کے چند معجزات ہیں۔ ان معجزات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
شکریہ
