Qaum e Saba Ka Waqiya _ قوم سبا کی تباہی _ Islamic Waqiat

قوم سبا کی تباہی

بسم اللہ الرحمن الرحیم. آج کی پوسٹ میں ہم قوم سبا کی تباہی کے بارے میں بات کریں گے۔ قوم سبا ایک قدیم قوم تھی جو یمن میں آباد تھی۔ یہ قوم اپنی شاندار تہذیب اور بے پناہ دولت کے لیے مشہور تھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت کے بعد یہ قوم دنیا پر حکمرانی کر رہی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ سونے سے آٹا پیس کر روٹیاں پکاتے تھے۔ لیکن وہ اتنے مغرور اور ناشکرے تھے کہ وہ روٹی کے ساتھ بچوں کا پاخانہ بھی صاف کرتے تھے۔ ان آلودہ روٹیوں کو اکٹھا کرنے سے ایک پہاڑ بن گیا۔

ایک دن قوم سبا کے لوگوں پر شدید قحط پڑا۔ لوگ بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔ جب قوم کے حکمرانوں سے کوئی خاص مدد نہ ملی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا غضب نازل کیا۔

پانی جو زندگی کی بنیاد ہے، وہ ان لوگوں سے چھین لیا گیا۔ فصلوں کی پیداوار ختم ہو گئی۔ آخرکار وہ مجبور ہو گئے کہ انہیں آٹے کی روٹیوں پر ٹوٹ پڑے جو ان لوگوں نے پہاڑ کے دامن میں جمع کر رکھی تھیں۔

لیکن وہاں سے روٹی لینے کے لیے سخت مقابلہ ہوتا تھا۔ ہر کوئی وہاں سے اپنے حصے کی روٹی لے جانا چاہتا تھا۔

قرآن مجید میں قوم سبا کی نعمتوں اور ان کی بدحالی کے بارے میں متعدد آیات موجود ہیں۔ سورہ النمل کی آیت نمبر 112 اور 113 میں ارشاد ہوتا ہے:

ترجمہ: اور اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے ایک بستی کی جو امن و امان میں تھی، مطمئن تھی، اسے ہر طرف سے بے حد روزی ملتی تھی۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنایا اس کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے۔

اسی طرح سورہ سبا کی آیت نمبر 17 میں ارشاد ہوتا ہے:

ترجمہ: تو یہ ہیں ان کے گھر ویران اس لیے کہ انہوں نے ظلم کیا۔

قوم سبا کی تباہی کے اسباب

قوم سبا کی تباہی کے کئی اسباب تھے۔ ان میں سے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:

ناشکری: قوم سبا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتی تھی۔ وہ اپنی دولت اور طاقت پر مغرور تھے۔

ظلم: قوم سبا کے حکمران اپنے عوام پر ظلم کرتے تھے۔ وہ ان سے زیادہ ٹیکس وصول کرتے تھے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھتے تھے۔


فحاشی اور بے حیائی: قوم سبا میں فحاشی اور بے حیائی عام تھی۔

قوم سبا کی تباہی ہمارے لیے ایک عبرت ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔