Hazrat Muhammad ﷺ Aur Yateem Bachay Ka Waqiya | Hazrat Muhammad SAW


حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور یتیم بچے کا واقعہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بات ہے کہ مکہ میں ایک بیوہ عورت رہتی تھی۔ وہ مسلمان نہیں تھی بلکہ مشرک تھی۔ اس کا 8 سال کا بیٹا تھا۔ وہ دونوں بہت قریب تھے۔ مشکل سے گزارا ہوتا تھا۔ ایک روز ماں گھر آئی تو بچے نے ماں کے قریب آکر سوال کیا کہ ماں میں نے دیکھا ہے کہ آپ دوسرے بچوں کی ماں کی طرح نہیں ہو۔ ان کے پاس نئے نئے کپڑے ہیں اور آپ کے پاس تو میں نے اور پھٹے کپڑے ہیں۔

 ماں نے بیٹے کی طرف نظر فرما کر دیکھا۔ پیار سے اسے اپنے پاس بلایا اور کھانے لگی۔ بیٹا: میرا باپ اب اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اسے اپنی ماں کے حالات سمجھ آنے لگی ہیں۔ ماں: تیرے باپ کا انتقال ہو چکا ہے اور تیری ماں اب بیوہ ہے۔ اور تو یتیم ہے۔ اس لیے میرے پاس پہننے کو اچھے کپڑے نہیں ہیں۔ تیری ماں سارے دن لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے اور جو کچھ بھی آج تک کمایا ہے وہ تم پر لگا دیا ہے۔ تجھے کھانا کھلایا تاکہ تو بھوکا نہ رہے۔

تیرے لیے کپڑے بنائے تاکہ تیرا جسم ڈھکا رہے اور تیری پرورش کر سکے۔ یہ کہہ کر ماں نے بیٹے کو گلے لگا کر خوب روئی۔ بیٹے نے ماں کو چپ کراتے ہوئے کہا: ماں تیری چادر پھٹ گئی ہے۔ نا میں تیرے لیے نئی چادر لاؤں گا۔ ماں نے پوچھا: بیٹا کہاں سے لے گا تو؟ تو ابھی 8 سال کا بچہ ہے۔ بچے نے کہا: ماں میں چاچا سے مانگ کر لاؤں گا۔ ماں نے کہا: تیرے چاچا نے تو تیرے باپ کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وہ تجھے چادر کہاں سے دے گا؟ بیٹا: اگر کہوں گا کہ میں تیرا بھتیجا ہوں۔ وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوگا۔ میں کہوں گا میں زمین لینے نہیں آیا۔ بس ماں کے لیے چادر لینے آیا ہوں۔ ماں مسکرائیں اور بولیں: بیٹا تجھے یہ بھی پتہ ہے وہ بہت دور رہتا ہے۔

 تو 8 سال کا بچہ ہے۔ کیسے جائے گا وہاں؟ بچے نے اطمینان سے جواب دیتے ہوئے کہا: ماں تو فکر نہ کر۔ میں سب پتہ کر چکا ہوں۔ ماں نے بیٹے کو چاچا کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ بیٹے کو نہلایا۔ صاف ستھرا لباس پہنایا۔ بالوں میں خوشبو لگائی اور چاچا کی طرف روانہ کر دیا۔ بچہ پیدل چلا ہوا چاچا کے مکان میں جا کر دیکھا کہ چاچا اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا تھا۔ بچے نے آداب کے ساتھ چاچا کو سلام کرتے ہوئے کہا۔ چاچا نے منہ موڑ کر دیکھا اور کہا: تو کون ہے؟ بچے نے کہا: میں آپ کا بھتیجا۔ میں آپ سے ماں کے لیے چادر لینے آیا ہوں۔ چاچا کے سامنے اس کا 8 سال کا بھتیجا کھڑا تھا۔ لیکن چاچا اسے پیار نہیں کرتا تھا۔ بلکہ اس نے بچے کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ بچاؤ بچاؤ کا شور کرتا رہا۔

 اتنا مارا کہ وہ بچہ لہو لہو ہو گیا۔ صاف ستھرے کپڑے خون سے بھر گئے۔ چاچا نے بھتیجے کو تھپڑ مارا۔ تین چار گھونسا مارا اور بچہ دور جا کر گرا۔ وہ بچہ مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگ گیا۔ادھر ماں کا دل بے چین ہو گیا۔ وہ اپنے بیٹے کی تلاش میں گھر سے نکل پڑی۔یہ صرف ماں اور بیٹے کا پیار تھا۔ یہ حال کیسے ہوا؟بچے نے سارا ماجرا بتایا کہ میں چاچا کے پاس ماں کے لیے چادر مانگنے گیا تھا اور چاچا نے مجھے مارا۔ماں نے کہا: سنو بیٹا! اب تم مکہ میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مل جائیں گے۔ ان سے اپنی ماں کے لیے چادر مانگنا۔

 وہ ضرور دیں گے۔ بچے نے خوشی سے پوچھا اور گھر کی طرف چل دیا۔بچہ ماں کے پاس گیا تو بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر اس کی ماں بہت روئی۔ اسے گھر لے آئی اور اسے نہلا کر اس کے زخموں پر مرہم لگایا اور کہا: میں نے تجھے منع کیا تھا نا کہ چاچا تجھے کچھ نہیں دے گا۔بیٹے نے کہا: ماں میں اب کسی اور کے پاس نہیں جاؤں گا۔ اگر مجھے اجازت دو تو وہ مجھے ضرور دیں گے۔ماں: کون ہے بیٹا؟بیٹا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماں نے بیٹے کو دھکے سے پیچھے کیا اور بولیں: اب اس گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں لیا جائے گا۔ تمہیں پتہ ہے کہ وہ جاادوگر ہے؟ شیطان ہے؟ مجنوں ہے؟ تو ان کے پاس ہرگز نہیں جائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر قرآن پاک میں 27 ویں سورت میں فرمایا ہے کہ لوگوں نے میرے نبی کو شاید مجنوں اور جاادوگر پکارا۔بچے نے کہا: ماں میں ان کا پتہ کر کے آیا ہوں۔ مجھے ایک بار ان کے پاس جانے کی اجازت دو۔ماں نے بڑی مشکل سے اجازت دے دی۔ جب ماں اور بیٹا مسجد میں پہنچے تو وہاں بہت سے لوگ کھڑے ہیں۔ بچے کو پہلے والا منظر یاد آ گیا۔ بچے کی ہمت نہ ہوئی کہ کسی سے پوچھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔بچہ دور سے کھڑا دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے کعبے کے گرد چکر لگانا شروع کر دیا۔ چلتا رہا اور دیکھتا رہا۔

 پھر ایک شخص پر نظر پڑی تو وہ بچہ کہتا ہے کہ میں ان کو دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کے چہرے پر نور ہی نور تھا۔ وہ خاموشی سے نظر جھکائے بیٹھے تھے۔ بچہ ان کے قریب گیا اور آہستہ سے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور کہا: کون؟بچہ گھبرا گیا اور رونے لگا۔میں ایک یتیم ہوں۔ میری ماں بیوہ ہے۔ مجھے اپنی ماں کے لیے ایک چادر چاہیے۔

 میں اپنے چاچا کے پاس گیا تھا لیکن انہوں نے مجھے مارا اور دھکے دے کر مجھے وہاں سے نکال دیا۔ پھر کسی نے مجھے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ تمہیں چادر ضرور دیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم 8 سال کے بچے کے منہ سے یہ بات سن کر کھڑے ہو گئے اور اسے سینے سے لگایا اور رونے لگے اور فرمانے لگے: میں بھی یتیم ہوں۔ میری ماں بھی بیوہ تھی۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ یتیم کی زندگی کیسی گزرتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم روتے رہے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ پھر فرمایا:"بیٹا! تم گھبرائو نہیں۔ میں تمہیں چادر دوں گا۔

"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر سے ایک قیمتی چادر لائی اور بچے کو دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روتے رہے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ پھر فرمایا:"بیٹا! تم گھبرائو نہیں۔ میں تمہیں چادر دوں گا۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر سے ایک قیمتی چادر لائی اور بچے کو دے دی۔بچے نے چادر لے کر ماں کے پاس پہنچایا۔ ماں نے چادر دیکھی تو بہت خوش ہوئی اور اپنے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ماں نے کہا: بیٹا! تم نے بہت اچھا کام کیا۔

میں نے تمہیں منع کیا تھا لیکن تم نے ہمت نہیں ہاری۔ بچے نے کہا: ماں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ ضرور میری مدد کریں گے۔ماں نے کہا: بیٹا! وہ واقعی ایک نیک اور رحم دل انسان ہیں۔اس کے بعد ماں اور بیٹے مسلمان ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہو گئے۔

 اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔آمین