حضرت موسیٰ اور فرعون
آج ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کہانی بیان کریں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ آپ ایک عظیم المرتبت نبی اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ایک تھے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر میں پیدا ہوئے۔ اس وقت مصر میں فرعون نامی ایک ظالم بادشاہ حکمرانی کر رہا تھا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا تھا اور ان پر بہت ظلم کرتا تھا۔
ایک دن فرعون نے خواب دیکھا کہ ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی بادشاہت کو ختم کر دے گا۔ فرعون نے حکم دیا کہ مصر میں پیدا ہونے والے تمام لڑکوں کو قتل کر دیا جائے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں بہا دیا۔ صندوق دریائے نیل کے کنارے ایک باغ میں پہنچ گیا۔ فرعون کی بیوی آسیہ نے صندوق کو دیکھا اور اسے کھولا۔ جب اس نے صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو اسے بہت پیار آیا۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے طور پر پالنا شروع کر دیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بڑے ہوئے تو انہوں نے فرعون کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزاد کرانے کا عزم کیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی اور انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کا وعدہ کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان کئی معجزات ہوئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے عصا کو اژدھے میں بدل دیا، اپنے ہاتھ کو نورانی کر دیا، اور دریائے نیل کو دو حصوں میں چیر دیا۔
آخر کار، اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی لشکر کو غرق کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل گئے۔
