شیر اور خرگوش کی کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شیر تھا جو جنگل میں رہتا تھا۔ وہ بہت طاقتور اور خوفناک تھا۔ وہ دوسرے جانوروں کا شکار کرتا تھا اور انہیں کھاتا تھا۔
ایک دن، شیر ایک ہرن کا شکار کر رہا تھا۔
ہرن بہت تیز بھاگ رہی تھی۔ وہ ایک گہرے کنویں کے پاس پہنچ گئی۔ ہرن نے سوچا کہ اگر وہ کنویں میں کود جائے تو شیر اس کا شکار نہیں کر سکے گا۔
ہرن نے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ شیر بھی ہرن کے پیچھے کود گیا۔ لیکن ہرن تو تیزی سے کنویں سے باہر نکل گئی۔ شیر کنویں میں پھنس گیا۔
شیر نے مدد کے لیے چیخنا شروع کر دیا۔
ایک گائے اس کی آواز سن کر کنویں کے پاس آئی۔ گائے نے شیر سے پوچھا کہ وہ کنویں میں کیسے گر گیا۔
شیر نے گائے سے کہا کہ وہ ہرن کا شکار کر رہا تھا۔ ہرن کنویں میں کود گئی اور وہ بھی اس کے پیچھے کود گیا۔ اب وہ کنویں میں پھنس گیا ہے۔
گائے نے شیر سے کہا کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گی۔ وہ نے کہا کہ شیر ایک ظالم جانور ہے جو دوسرے جانوروں کا شکار کرتا ہے۔
گائے چلی گئی۔
شیر کنویں میں پھنسا رہا۔
کچھ دیر بعد، ایک خرگوش اس کی آواز سن کر کنویں کے پاس آیا۔ خرگوش نے شیر سے پوچھا کہ وہ کنویں میں کیسے گر گیا۔
شیر نے خرگوش کو اپنی کہانی سنائی۔
خرگوش نے شیر سے کہا کہ وہ اس کی مدد کرے گا۔ خرگوش نے ایک رسی لائی اور اسے کنویں میں لٹکا دیا۔ شیر رسی کے ذریعے کنویں سے باہر نکل آیا۔
شیر خرگوش کا شکریہ ادا کرنے لگا۔
خرگوش نے شیر سے کہا کہ وہ اسے کھانے کی کوشش نہ کرے۔ شیر نے وعدہ کیا کہ وہ خرگوش کو نہیں کھائے گا۔
شیر اور خرگوش دوست بن گئے۔
نتیجہ:
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ احسان فراموشی کی سزا ملتی ہے۔ گائے نے شیر کی مدد نہیں کی کیونکہ شیر نے اس کے ساتھ احسان فراموشی کی تھی۔ اس نے ہرن کو کھانے کی کوشش کی تھی۔
شیر نے خرگوش کا احسان مانا اور اسے نہیں کھایا۔ اس لیے خرگوش اور شیر دوست بن گئے۔
