اک زمانے کی بات ہے،حیدراباد گاؤں میں ایک موچی رہتا تھا۔ اس کا نام بٹو تھا۔ بٹو بہت ہی ہوشیار اور ذہین تھا۔ وہ ہمیشہ کچھ نیا کرنے کی سوچتا رہتا تھا۔
ایک دن، بٹو کی دکان میں ایک آدمی آیا اور اس سے کہا، "بھائی، میں تمہاری دکان خریدنا چاہتا ہوں۔"
بٹو کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اس نے فوراً ہی آدمی سے کہا، "جی ہاں، آپ دکان خرید سکتے ہیں۔"
اگلے دن، آدمی نے بٹو سے 10 سونے کے سکوں میں دکان خرید لی۔
بٹو کے پاس اب 10 سونے کے سکے تھے۔ وہ سوچنے لگا کہ اب وہ کیا کرے؟
اس نے سوچا کہ وہ ایک گدھا خرید کر اس پر لوہا ڈبہ اور شان ٹکڑے بیچے گا۔
بٹو دوسرے گاؤں گیا اور وہاں سے ایک گدھا خرید لیا۔
گدھا خریدنے کے لیے اس نے ایک سونے کا سکہ دیا۔
گدھا خرید کر بٹو اپنے گاؤں واپس آ گیا۔
راستے میں اسے چند ڈاکو ملے۔ ڈاکوؤں نے بٹو کو روکا اور کہا، "ہمارا مال دکھاؤ۔"
بٹو کو بہت ڈر لگا۔ اس نے سوچا کہ اب وہ کیا کرے؟
اس نے فوراً ہی ایک سکہ گدھے کی ناک میں چھپا دیا۔
ڈاکوؤں نے بٹو کی تلاشی لی، لیکن انہیں کچھ بھی نہیں ملا۔
ڈاکوؤں نے کہا، "تم نے اپنی ناک میں چھپا کر رکھا ہے؟"
بٹو نے کہا، "جی ہاں، میرا گدھا ہی سونے کے سکے دیتا ہے۔"
ڈاکوؤں کو یہ سن کر بہت حیرت ہوئی۔ وہ بٹو سے گدھا خریدنے کے لیے راضی ہو گئے۔
ڈاکوؤں نے بٹو کو 50 سونے کے سکے دیے اور گدھا خرید لیا۔
بٹو بہت خوش ہوا۔ اس نے سوچا کہ اب وہ بہت امیر بن جائے گا۔
بٹو گھر پہنچا اور اپنی بیوی اور ماں کو ساری بات بتائی۔
اس کی بیوی نے کہا، "تم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ اب ہم بہت امیر بن جائیں گے۔"
بٹو نے سوچا کہ وہ ڈاکوؤں کو دھوکا دے سکتا ہے۔
اس نے اپنی بیوی سے کہا، "تم گدھے کے کھانے میں پانی ملا کر اس میں تھوڑا سا سونے کا رنگ ڈال دو۔"
بٹو کی بیوی نے ایسا ہی کیا۔
اگلے دن، ڈاکو گدھے کو لینے آئے۔
ڈاکوؤں نے دیکھا کہ گدھے نے کچھ نہیں دیا۔
وہ بٹو سے ناراض ہو گئے اور اسے دھمکانے لگنے لگے۔
بٹو نے کہا، "میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میرا گدھا سونے کے سکے دیتا ہے۔"
ڈاکوؤں نے کہا، "تم نے ہمیں بیوقوف بنایا ہے۔"
بٹو نے کہا، "میں نے آپ کو بیوقوف نہیں بنایا ہے۔ میرا گدھا سونے کی مئنگنی کرتا ہے۔"
ڈاکوؤں نے دیکھا کہ گدھا مئنگنی کر رہا ہے۔
وہ بٹو سے ڈر گئے اور اسے 200 سونے کے سکے دے کر چلے گئے۔
بٹو بہت خوش ہوا۔ اس نے سوچا کہ اب وہ اور بھی امیر بن جائے گا۔
بٹو نے گدھے پر لوہا ڈبہ اور شان ٹکڑے بیچنا شروع کر دیا۔
بٹو بہت جلد ہی بہت امیر بن گیا۔
سبق:اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں چالاکی سے کام لینا چاہیے
