طوفان نوح
قرآن پاک میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ ایک کشتی بنائیں۔ یہ کشتی اتنی بڑی تھی کہ اس میں ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا سوار ہو سکتا تھا۔ کشتی کی تعمیر میں 100 سال لگے تھے۔
جب کشتی تیار ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے طوفان آنے کا حکم دیا۔ اس طوفان میں 40 دن تک مسلسل بارش ہوتی رہی۔ زمین سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے اور پوری دنیا میں پانی بھر گیا۔ 40 گز اونچے پہاڑ بھی پانی میں ڈوب گئے۔
اس طوفان میں حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور ان کا ایک بیٹا کنعان بھی مارے گئے۔ باقی 80 لوگ جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، وہ بچ گئے۔
چھ ماہ تک کشتی پانی میں بہتی رہی۔ آخر کار یہ ایک پہاڑ پر رک گئی۔ یہ پہاڑ جودی پہاڑ تھا۔
جب پانی کم ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام کشتی سے اتر آئے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اپنے ساتھیوں کو اللہ کی عبادت کرنے کیلئے کہا۔
سبق:
اس قصے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا تھا تو انہوں نے بغیر کسی سوال کے اسے پورا کیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اور ان کے ساتھی اس طوفان سے بچ گئے۔
ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی باتوں پر عمل کرنا چاہیے، چاہے وہ کتنی ہی مشکل کیوں نہ لگے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ڈھکے رہیں گے۔
