سچائی کا پھل | بندر، ہرن اور ہاتھی کی کہانی
ایک دن ایک ہرن جنگل میں گھوم رہا تھا۔ اچانک اسے ایک درخت پر بندر آم کھاتا ہوا نظر آیا۔ ہرن کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے سوچا کہ بندر مجھے آم نہیں دے گا۔ مجھے کچھ جھوٹ بولنا ہوگا۔
ہرن بندر کے پاس گیا اور آہستہ آواز میں بولا، "بندر بھائی، تمہارا نصیب کتنا اچھا ہے۔ تم جتنا چاہو آم کھا سکتے ہو۔"
بندر نے کہا، "ہاں، یہ آم بہت میٹھے ہیں۔ تم بھی کچھ کھاؤ۔"
ہرن نے کہا، "نہیں، میں نہیں کھا سکتا۔
میں نے عہد کیا ہے کہ میں کبھی بھی درخت سے آم نہیں کھاوں گا۔"
بندر نے کہا، "یہ تو بہت اچھی بات ہے۔"
ہرن نے کہا، "ہاں، لیکن مجھے تم سے ایک درخواست کرنی ہے۔"
بندر نے کہا، "کہو، میں کیا کر سکتا ہوں؟"
ہرن نے کہا، "کیا تم مجھے ایک آم دے سکتے ہو؟ میں اپنے بچوں کے لیے لے جانا چاہتا ہوں۔"
بندر نے کہا، "ٹھیک ہے، میں تمہیں ایک آم دوں گا۔
"
بندر نے ہرن کو ایک آم دیا۔ ہرن نے آم لیا اور چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد، ہرن کو ایک ہاتھی نظر آیا جو آمرود کھا رہا تھا۔ ہرن ہاتھی کے پاس گیا اور اسے دیکھنے لگا۔
ہاتھی نے کہا، "کیا تم مجھے نظر لگا رہے ہو؟"
ہرن نے کہا، "نہیں، میں صرف آپ کو دیکھ رہا تھا۔ آپ بہت خوبصورت ہیں۔"
ہاتھی نے کہا، "شکریہ۔"
ہرن نے کہا، "کیا میں آپ سے ایک درخواست کر سکتا ہوں؟"
ہاتھی نے کہا، "کہو، میں کیا کر سکتا ہوں؟"
ہرن نے کہا، "کیا آپ مجھے ایک آمرود دے سکتے ہیں؟ میں اپنے بچوں کے لیے لے جانا چاہتا ہوں۔
"
ہاتھی نے کہا، "ٹھیک ہے، میں تمہیں ایک آمرود دوں گا۔"
ہاتھی نے ہرن کو ایک آمرود دیا۔ ہرن نے آمرود لیا اور چلا گیا۔
ہرن نے سوچا، "میں نے آج دو جھوٹ بولے اور مجھے دو پھل مل گئے۔ یہ تو بہت اچھا ہے۔"
اگلے دن، ہرن جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اسے ایک بھیڑیا نظر آیا۔ بھیڑیا نے ہرن کو دیکھ کر اس پر حملہ کر دیا۔
ہرن نے مدد کے لیے چیخنا شروع کر دیا۔ اچانک، بندر اور ہاتھی وہاں آ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ بھیڑیا ہرن کو گھسیٹ کر ایک غار میں لے جا رہا ہے۔
ہاتھی نے اپنی سونڈ سے ہرن کو پکڑ لیا اور بندر نے بھیڑیے پر پتھر پھینکنے شروع کر دیے۔
بھیڑیا ہرن کو چھوڑ کر غار میں بھاگ گیا۔
ہرن نے بندر اور ہاتھی کا شکریہ ادا کیا۔
بندر نے کہا، "ہم نے تمہاری مدد کی کیونکہ تم نے ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کیا۔"
ہرن نے کہا، "میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا۔"
بندر نے کہا، "ہمیں معلوم ہے۔ لیکن ہم نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔"
ہرن نے کہا، "میں اب کبھی بھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔"
ہرن، بندر اور ہاتھی دوست بن گئے اور وہ ہمیشہ خوشی خوشی رہے۔
