ایک دن، مٹو نامی ایک ریچھ ندی کے کنارے اداس بیٹھا تھا۔ اسے بھوک لگی تھی اور وہ مچھلی کھانا چاہتا تھا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ خود مچھلی نہیں پکڑ سکتا۔
اچانک، ایک بگل وہاں اڑتا ہوا آیا۔ اس نے مٹو سے پوچھا کہ وہ کیوں اداس ہے۔ مٹو نے اسے بتایا کہ اسے بھوک لگی ہے اور وہ مچھلی کھانا چاہتا ہے۔
بگل نے مٹو سے کہا کہ وہ اس کی مدد کرے گا۔ اس نے کہا کہ وہ مچھلی پکڑنے میں ماہر ہے۔
بگل نے مٹو کو ایک درخت کے نیچے بیٹھنے کو کہا۔
پھر وہ ندی میں اڑ گیا اور مچھلی پکڑنے لگا۔
اچانک، ایک مگرمچھ ندی سے باہر نکلا۔ اس نے بگل کو دیکھ لیا اور اسے پکڑنے کی کوشش کی۔
مٹو نے یہ دیکھ کر مگرمچھ پر حملہ کر دیا۔ اس نے مگرمچھ کو بھگا دیا اور بگل کی جان بچائی۔
بگل مٹو کی مدد کے لیے بہت شکر گزار تھا۔ اس نے مٹو سے کہا کہ وہ اب اس کا دوست ہے۔
مٹو اور بگل اچھے دوست بن گئے۔ وہ اکثر ایک ساتھ کھیلتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
سبق:
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔ دوستی ایک قیمتی چیز ہے اور ہمیں اسے سنبھالنا چاہیے۔
