A Greedy Monkey Story in Urdu _ Urdu Stories Awaz

لالچی بندر

ایک جنگل میں ایک آم کا درخت تھا جس پر بہت ہی مزیدار آم لگتے تھے۔ یہ آم پورے جنگل میں مشہور تھے۔ تمام جانور اور پرندے ان آموں کو کھانے کے لیے آتے تھے۔

ایک شیر آموں کی حفاظت کرتا تھا۔ وہ ہر جانور اور پرندے کو اس کے حصے کا آم دیتا تھا۔ تمام جانور اس کے فیصلے سے خوش رہتے تھے۔ لیکن ایک بندر تھا جو کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ اسے چاہے جتنے بھی آم دے دیے جاتے، وہ ہمیشہ اور چاہتا تھا۔ ایک دن، بندر نے فیصلہ کیا کہ وہ آم چرائے گا۔

 وہ رات کے وقت درخت پر چڑھا اور آم چرانے لگا۔ اسی وقت، ایک طوطا وہاں سے گزر رہا تھا۔ اس نے بندر کو آم چراتے ہوئے دیکھ لیا۔ طوطے نے بندر سے کہا، "تم کیا کر رہے ہو؟ یہ آم چرانا غلط ہے۔" بندر نے کہا، "مجھے پرواہ نہیں ہے۔ میں صرف اپنے لیے آم چاہتا ہوں۔" طوطا نے کہا، "اگر تم نے یہ آم چرائے تو تمہیں پکڑ لیا جائے گا۔" بندر نے کہا، "مجھے پکڑنے والا کوئی نہیں ہے۔" اور بندر آم چراتا رہا۔ اگلے دن، شیر آموں کی حفاظت کے لیے درخت کے پاس آیا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ آم غائب ہیں۔

 شیر نے سوچا، "یہ کون ہو سکتا ہے جس نے یہ آم چرائے ہیں؟" اچانک، اسےطوطا یاد آیا۔ اس نے تو تا سے پوچھا، "کیا تم نے کل رات کسی کو آم چراتے ہوئے دیکھا تھا؟" طوطا نے کہا، "جی ہاں، میں نے بندر کو آم چراتے ہوئے دیکھا تھا۔" شیر کو بہت غصہ ہوا۔ وہ بندر کو تلاش کرنے کے لیے نکل گیا۔ اس نے بندر کو ایک درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس نے بندر سے کہا، "تم نے یہ آم کیوں چرائے؟" بندر نے کہا، "مجھے بھوک لگی تھی۔" شیر نے کہا، "تم مجھ سے مانگ سکتے تھے۔

 میں تمہیں آم ضرور دیتا۔" بندر نے کہا، "مجھے معاف کر دیں۔ میں آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔" لیکن شیر نے بندر کو معاف نہیں کیا۔ اس نے بندر کو سزا دی۔ اس نے بندر کو کہا، "اب تمہیں کبھی بھی اس درخت سے آم نہیں کھانے کو ملیں گے۔" بندر بہت پچھتاوا ہوا۔ اسے اپنی لالچ پر افسوس ہوا۔

سبق:
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ لالچ ایک بری چیز ہے۔ لالچ ہمیں غلط کام کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اور غلط کام کرنے کی ہمیشہ سزا ملتی ہے۔